گھسا میری

کوئی مطلب موجود نہیں

گھسا ہتکٹی

کوئی مطلب موجود نہیں

گھل گھل کر

کوئی مطلب موجود نہیں

گھل گھل کر مرنا

کوئی مطلب موجود نہیں

گھل ملائی

کوئی مطلب موجود نہیں

گھل مل کر

کوئی مطلب موجود نہیں

گھل مل کر باتیں کرنا

کوئی مطلب موجود نہیں

ظرف نظر

 ظرف نظر تو پیدا کریں پہلے آئینے پھر پردہ و حجاب اٹھائیں تمام رات (١٩٨٣ء، حصارِ انا، ١٧٤)

گھلانا[1]

کوئی مطلب موجود نہیں

گھلانا[2]

کوئی مطلب موجود نہیں

گھلاوٹ کی آنکھ

کوئی مطلب موجود نہیں

گھما پھرا کر

کوئی مطلب موجود نہیں

گھما گھما کر

کوئی مطلب موجود نہیں

گھمسان سے

کوئی مطلب موجود نہیں

گھمسان کا

کوئی مطلب موجود نہیں

گھمسان کا رن

کوئی مطلب موجود نہیں

گھمسان کی

کوئی مطلب موجود نہیں

گھمسان کی لڑائی

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن[1]

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن شام

کوئی مطلب موجود نہیں

ظرف زمان

"اسم ظرف دو قسم کا ہوتا ہے . دوسرا وہ جو وقت کو بتلائے اس کو ظرف زماں کہتے ہیں۔" (١٩٣٤ء، اساسِ اُردو، ٢٨)

گھن کا سکہ

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن کی

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن کی چوٹ

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن کے روپے

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن گرج خطابت

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن گرج کی تقریر

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن گھور

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن گھور لڑائی

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن گھن

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن[2]

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن کھا کر

کوئی مطلب موجود نہیں

گھن کھایا

کوئی مطلب موجود نہیں

گھنا اندھیرا

کوئی مطلب موجود نہیں

گھنا بیلا

کوئی مطلب موجود نہیں

گھنا جال

کوئی مطلب موجود نہیں

گھنا گھن

کوئی مطلب موجود نہیں

گھنا گھنا

کوئی مطلب موجود نہیں

گھنا گھنا سایہ

کوئی مطلب موجود نہیں

گھنا ہوا

کوئی مطلب موجود نہیں