خون آب
کوئی مطلب موجود نہیں
خون آلود
کوئی مطلب موجود نہیں
خون بد امان
کوئی مطلب موجود نہیں
خون باری
کوئی مطلب موجود نہیں
خون چکانی
کوئی مطلب موجود نہیں
خون خوری
کوئی مطلب موجود نہیں
خون دار
کوئی مطلب موجود نہیں
خون شریک
کوئی مطلب موجود نہیں
خون کا پیاسا
کوئی مطلب موجود نہیں
خون کا دعوی
کوئی مطلب موجود نہیں
خون کا گروہ
کوئی مطلب موجود نہیں
خون کی گردش
کوئی مطلب موجود نہیں
خون گشتہ
کوئی مطلب موجود نہیں
خون مردار
کوئی مطلب موجود نہیں
جائے قیام
"بڑی مہربانی یہ ہو گی کہ اجازت دی جائے، میں خود اپنا انتظام کر لوں، صرف جائے قیام کافی ہے۔" (١٩١٤ء، خطوط اکبر، ١٩:٢)
خون ناحق
کوئی مطلب موجود نہیں
خون نگار
کوئی مطلب موجود نہیں
خونی برف
کوئی مطلب موجود نہیں
خونی بواسیر
کوئی مطلب موجود نہیں
خونی چمڑا
کوئی مطلب موجود نہیں
خونی دستی
کوئی مطلب موجود نہیں
خونی رشتہ
کوئی مطلب موجود نہیں
خونی میدان
کوئی مطلب موجود نہیں
خونی نامناسبت
کوئی مطلب موجود نہیں
جائے گزر
"یہ شہر (کسی زمانے میں) دریائے فرات پر ایک اہم جائے گزر کی محافظت کرتا تھا۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٩٥:٣)
خونی نشانی
کوئی مطلب موجود نہیں
خیال آباد
کوئی مطلب موجود نہیں
خیال بند
کوئی مطلب موجود نہیں
خیال سے باہر
کوئی مطلب موجود نہیں
خیال مقید
کوئی مطلب موجود نہیں
خیالی خط
کوئی مطلب موجود نہیں
خیالی دائرہ
کوئی مطلب موجود نہیں
جباریت
"فیروز شاہ نے . خدا کی توفیق اور اس کے خوف اور اس کی جباریت و قہاریت کے ہراس و خیال سے ہر خاص و عام کو اپنے احسان سے بہرہ ور کیا۔" (١٩٣٨ء، تاریخ فیروزشاہی، فدا علی، ٣٠٨)
خیالی نقشہ
کوئی مطلب موجود نہیں
خیانت کار
کوئی مطلب موجود نہیں
خیل
کوئی مطلب موجود نہیں
خیمہ بردار
کوئی مطلب موجود نہیں
خیمہ زنی
کوئی مطلب موجود نہیں
خیمہ گاہ
کوئی مطلب موجود نہیں
خیمہ ڈیرا
کوئی مطلب موجود نہیں