یاسیت

کوئی مطلب موجود نہیں

یاسمین بو

کوئی مطلب موجود نہیں

یاقوت رمانی

کوئی مطلب موجود نہیں

یاقوت جگری

کوئی مطلب موجود نہیں

یاور غریباں

کوئی مطلب موجود نہیں

ید طولی

کوئی مطلب موجود نہیں

یخنی پلاؤ

کوئی مطلب موجود نہیں

یداللہی

کوئی مطلب موجود نہیں

بایں ہمہ

"بایں ہمہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جو قصور میں اصغر صاحب کے سر ڈال رہا ہوں اسے خود مجھ کو اوڑھ لینا چاہیے۔" (١٩٤٠ء، مضامین رشید، ٢٣٠)

عشق الہی

"عشق الٰہی اور حب رسول کا نقشہ دیکھا اس کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔" (١٩٧٢ء، صدرنگ، ١١)

یرمغاں

کوئی مطلب موجود نہیں

یزدی

کوئی مطلب موجود نہیں

یزیدی

کوئی مطلب موجود نہیں

یزیدیت

کوئی مطلب موجود نہیں

یسوع

کوئی مطلب موجود نہیں

یشمی

کوئی مطلب موجود نہیں

یشمک

کوئی مطلب موجود نہیں

یعبوب

کوئی مطلب موجود نہیں

یک اسپہ

کوئی مطلب موجود نہیں

برف پوش

کوئی مطلب موجود نہیں

برکھ

کوئی مطلب موجود نہیں

بڑکی[2]

کوئی مطلب موجود نہیں

برنی[5]

کوئی مطلب موجود نہیں

عشائیہ

"محفوظ علی صاحب نے اپنے گھر پر عشائیہ دیا تھا۔" (١٩٨٣ء، خطبات محمود، ٢٨)

برہم زدہ

کوئی مطلب موجود نہیں

برہم راکشش

کوئی مطلب موجود نہیں

نہچنت

کوئی مطلب موجود نہیں

نہایت کوں

کوئی مطلب موجود نہیں

بالفاظ دیگر

"بالفاظ دیگر اس نے خود ہی بادشاہ کی اطاعت قبول کر لی تھی۔" (١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ٨٩)

استقرا

کوئی مطلب موجود نہیں

اسفندیار

کوئی مطلب موجود نہیں

اشوک

کوئی مطلب موجود نہیں

اضافت توصیفی

کوئی مطلب موجود نہیں

دوش[1]

 موت نے آ کر ڈھانپے سب کے روگ اور دکھ اور دوش ایک جنم کا مارا وہ جو مر کے مٹ نہیں پائے (١٩٨١ء، حرف دل رس، ٧٢)

دوش[2]

"قیصر صاحب جب میرٹھ میں تھے تو ان پر کیسی پھبن تھی . زلفیں دوش کو چھوتی ہوئیں . سب سے الگ۔" (١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٤٨)

دم کا مہمان

"آخر اماں جان کا آخری وقت آن پہنچا، بڑی بوڑھیوں نے کہا اب کوئی دم کی مہمان ہیں۔" (١٩٨٢ء، میری زندگی فسانہ، ٢٥٨)

باقساط

"انسائی کلوپیڈیا آف اسلام جو یورپ میں باقساط شائع ہو رہی ہے اس میں بھی حافظ پر ضرور آرٹیکل ہو گا۔" (١٩١٦ء، اقبال نامہ، ٤٢:١)

دماغی اعصاب

"خرگوش میں دماغی اعصاب کے بارہ جوڑے ہوتے ہیں۔" (١٩٦٥ء، معیاری حیوانیات، ٣٢٤:١)

دماغی امراض

"بالآخر بات خودکشی سے کھسک کر دماغی امراض اور پاگل پن کی طرف مڑ گئی۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١١)

دم دار ستارہ

"یہ ایک منحوس دمدار ستارے کی طرح میرے تعاقب میں ہے۔" (١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ٢٣١)